Prof. Syed Mujahid Sajjad

اپنا ہی سا اے نرگس مستانہ بنا دے

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

اپنا ہی سا اے نرگس مستانہ بنا دے

میں جب تجھے جانوں مجھے دیوانہ بنا دے

ہر قید سے ہر رسم سے بیگانہ بنا دے

دیوانہ بنا دے مجھے دیوانہ بنا دے

اک برق ادا خرمن ہستی پہ گرا کر

نظروں کو مری طور کا افسانہ بنا دے

ہر دل ہے تری بزم میں لبریز مئے عشق

اک اور بھی پیمانہ سے پیمانہ بنا دے

تو ساقی مے خانہ بھی تو نشہ و مے بھی

میں تشنۂ ہستی مجھے مستانہ بنا دے

اللہ نے تجھ کو مے و مے خانہ بنایا

تو ساری فضا کو مے و مے خانہ بنا دے

تو ساقئ مے خانہ ہے میں رند بلا نوش

میرے لئے مے خانہ کو پیمانہ بنا دے

یا دیدہ و دل میں مرے تو آپ سما جا

یا پھر دل و دیدہ ہی کو ویرانہ بنا دے

قطرے میں وہ دریا ہے جو عالم کو ڈبو دے

ذرے میں وہ صحرا ہے کہ دیوانہ بنا دے

لیکن مجھے ہر قید تعین سے بچا کر

جو چاہے وہ اے نرگس مستانہ بنا دے

عالم تو ہے دیوانہ جگر! حسن کی خاطر

تو اپنے لئے حسن کو دیوانہ بنا دے

کب تک نگہ یار نہ ہوگی متبسم

تو اپنا ہر انداز حریفانہ بنا دے

منکر تو نہ بن حسن کے اعجاز نظر کا

کہنے کے لئے اپنے کو بیگانہ بنا دے

جب تک کرم خاص کا دریا نہ امنڈ آئے

تو اور بھی حال اپنا سفیہانہ بنا دے

بت خانے آ نکلے تو کعبہ کی بنا ڈال

کعبے میں پہنچ جائے تو بت خانہ بنا دے

جو موج اٹھے دل سے ترے جوش طلب میں

سر رکھ کے وہیں سجدۂ شکرانہ بنا دے

جب مائل الطاف نظر آئے وہ خودبیں

تو ہر نگہ شوق کو افسانہ بنا دے

کونین بھی مل جائے تو دامن کو نہ پھیلا

کونین کو بھولا ہوا افسانہ بنا دے

پھر عرض کر اس طرح جگرؔ شوق و ادب سے

بے باک اگر جرأت رندانہ بنا دے

تجھ کو نگہ یار! قسم میرے جنوں کی

ناصح کو بھی میرا ہی سا دیوانہ بنا دے

میں ہوں ترے قدموں میں مجھے کچھ نہیں کہنا

اب جو بھی ترا لطف کریمانہ بنا دے

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi