سبھی انداز حسن پیارے ہیں
کلیاتِ جگر
Published 14 October 2026
سبھی انداز حسن پیارے ہیں
ہم مگر سادگی کے مارے ہیں
اس کی راتوں کا انتقام نہ پوچھ
جس نے ہنس ہنس کے دن گزارے ہیں
اے سہاروں کی زندگی والو
کتنے انسان بے سہارے ہیں
لالہ و گل سے تجھ کو کیا نسبت
نا مکمل سے استعارے ہیں
ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے
وہ رہیں شاد جو کنارے ہیں
شب فرقت بھی جگمگا اٹھی
اشک غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں
آتش عشق وہ جہنم ہے
جس میں فردوس کے نظارے ہیں
وہ ہمیں ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے
گیسوئے زندگی سنوارے ہیں
حسن کی بے نیازیوں پہ نہ جا
بے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں
About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)
جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔