Prof. Syed Mujahid Sajjad

پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر

پھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کر

یہی دنیا کہ جو بت خانہ بنی جاتی ہے

اسی بت خانے سے کعبے کی زمیں پیدا کر

روح آدم نگراں کب سے ہے تیری جانب

اٹھ اور اک جنت جاوید یہیں پیدا کر

خس و خاشاک توہم کو جلا کر رکھ دے

��عنی آتش کدۂ سوز یقیں پیدا کر

غم میسر ہے تو اس کو غم کونین بنا

دل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر

آسماں مرکز تخئیل و تصور کب تک

آسماں جس سے خجل ہو وہ زمیں پیدا کر

دل کے ہر قطرہ میں طوفان تجلی بھر دے

بطن ہر ذرہ سے اک مہر مبیں پیدا کر

بندگی یوں تو ہے انسان کی فطرت لیکن

ناز جس پہ کریں سجدے وہ جبیں پیدا کر

پستئ خاک پہ کب تک تری بے بال و پری

پھر مقام اپنا سر عرش بریں پیدا کر

عشق ہی زندہ و پایندہ حقیقت ہے جگرؔ

عشق کو عام بنا ذوق یقیں پیدا کر

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi