پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر
کلیاتِ جگر
Published 14 October 2026
پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر
پھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کر
یہی دنیا کہ جو بت خانہ بنی جاتی ہے
اسی بت خانے سے کعبے کی زمیں پیدا کر
روح آدم نگراں کب سے ہے تیری جانب
اٹھ اور اک جنت جاوید یہیں پیدا کر
خس و خاشاک توہم کو جلا کر رکھ دے
��عنی آتش کدۂ سوز یقیں پیدا کر
غم میسر ہے تو اس کو غم کونین بنا
دل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر
آسماں مرکز تخئیل و تصور کب تک
آسماں جس سے خجل ہو وہ زمیں پیدا کر
دل کے ہر قطرہ میں طوفان تجلی بھر دے
بطن ہر ذرہ سے اک مہر مبیں پیدا کر
بندگی یوں تو ہے انسان کی فطرت لیکن
ناز جس پہ کریں سجدے وہ جبیں پیدا کر
پستئ خاک پہ کب تک تری بے بال و پری
پھر مقام اپنا سر عرش بریں پیدا کر
عشق ہی زندہ و پایندہ حقیقت ہے جگرؔ
عشق کو عام بنا ذوق یقیں پیدا کر
About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)
جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔