Prof. Syed Mujahid Sajjad

عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں

زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں

بے کراں ہوتا نہیں بے انتہا ہوتا نہیں

قطرہ جب تک بڑھ کے قلزم آشنا ہوتا نہیں

اس سے بڑھ کر دوست کوئی دوسرا ہوتا نہیں

سب جدا ہو جائیں لیکن غم جدا ہوتا نہیں

زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ

موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

کون یہ ناصح کو سمجھائے بہ طرز دل نشیں

عشق صادق ہو تو غم بھی بے مزا ہوتا نہیں

درد سے معمور ہوتی جا رہی ہے کائنات

اک دل انساں مگر درد آشنا ہوتا نہیں

میرے عرض غم پہ وہ کہنا کسی کا ہائے ہائے

شکوۂ غم شیوۂ اہل وفا ہوتا نہیں

اس مقام قرب تک اب عشق پہنچا ہی جہاں

دیدہ و دل کا بھی اکثر واسطا ہوتا نہیں

ہر قدم کے ساتھ منزل لیکن اس کا کیا علاج

عشق ہی کم بخت منزل آشنا ہوتا نہیں

اللہ اللہ یہ کمال اور ارتباط حسن و عشق

فاصلے ہوں لاکھ دل سے دل جدا ہوتا نہیں

کیا قیامت ہے کہ اس دور ترقی میں جگرؔ

آدمی سے آدمی کا حق ادا ہوتا نہیں

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi