اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا
کلیاتِ جگر
Published 14 October 2026
اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا
اتنی ہی بڑھی حسرت جتنا ہی ادھر دیکھا
تھا کھیل سا پہلے عشق لیکن جو کھلیں آنکھیں
ڈوبا ہوا رگ رگ میں وہ تیر نظر دیکھا
سب ہو گئی اٹھ اٹھ کر اک باز نثار شمع
پروانوں نے کیا جانے کیا وقت سحر دیکھا
وہ اشک بھری آنکھیں اور درد بھرے نالے
اللہ نہ دکھلائے جو وقت سحر دیکھا
قرباں تری آنکھوں کے صدقے تری نظروں کے
تھا حاصل صد ناوک جو زخم جگر دیکھا
جاتے رہے دم بھر میں سارے ہی گلے شکوے
اس جان تغافل نے جب ایک نظر دیکھا
عہد غم فرقت میں دل اور جگر کیسے
اک زخم ادھر پایا اک داغ ادھر دیکھا
تھا باعث رسوائی ہر چند جنوں میرا
ان کو بھی نہ چین آیا جب تک نہ ادھر دیکھا
اس چشم غزالیں کو میخانۂ دل پایا
اس روئے نگاریں کو فردوس نظر دیکھا
یوں دل کو تڑپنے کا کچھ تو ہے سبب آخر
یا درد نے کروٹ لی یا تم نے ادھر دیکھا
کیا جانئے کیا گزری ہنگام جنوں لیکن
کچھ ہوش ہو آیا تو اجڑا ہوا گھر دیکھا
ماتھے پہ پسینا کیوں آنکھوں میں نمی کیسی
کچھ خیر تو ہی تم نے کیا حال جگر دیکھا
About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)
جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔