Prof. Syed Mujahid Sajjad

فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے

جا رہا ہوں جس طرف لے جا رہا ہے دل مجھے

اب زباں بھی دے ادائے شکر کے قابل مجھے

درد بخشا ہے اگر تو نے بجائے دل مجھے

یوں تڑپ کر دل نے تڑپایا سر محفل مجھے

اس کو قاتل کہنے والے کہہ اٹھے قاتل مجھے

اب کدھر جاؤں بتا اے جذبۂ کامل مجھے

ہر طرف سے آج آتی ہے صدائے دل مجھے

روک سکتی ہو تو بڑھ کر روک لے منزل مجھے

ہر طرف سے آج آتی ہے صدائے دل مجھے

جان دی کہ حشر تک میں ہوں مری تنہائیاں

ہاں مبارک فرصت نظارۂ قاتل مجھے

ہر اشارے پر ہے پھر بھی گردن تسلیم خم

جانتا ہوں صاف دھوکے دے رہا ہے دل مجھے

جا بھی اے ناصح کہاں کا سود اور کیسا زیاں

عشق نے سمجھا دیا ہے عشق کا حاصل مجھے

میں ازل سے صبح محشر تک فروزاں ہی رہا

حسن سمجھا تھا چراغ کشتۂ محفل مجھے

خون دل رگ رگ میں جم کر رہ گیا اس وہم سے

بڑھ کے سینے سے نہ لپٹا لے مرا قاتل مجھے

کیسا قطرہ کیسا دریا کس کا طوفاں کس کی موج

تو جو چاہے تو ڈبو دے خشکئ ساحل مجھے

پھونک دے اے غیرت سوز محبت پھونک دے

اب سمجھتی ہیں وہ نظریں رحم کے قابل مجھے

توڑ کر بیٹھا ہوں راہ شوق میں پائے طلب

دیکھنا ہے جذبۂ بے تابئ منزل مجھے

اے ہجوم ناامیدی شاد باش و زندہ باش

تو نے سب سے کر دیا بیگانہ و غافل مجھے

درد محرومی سہی احساس ناکامی سہی

اس نے سمجھا تو بہر صورت کسی قابل مجھے

یہ بھی کیا منظر ہے بڑھتے ہیں نہ رکتے ہیں قدم

تک رہا ہوں دور سے منزل کو میں منزل مجھے

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi