Prof. Syed Mujahid Sajjad

نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا

نظر ہٹی تھی کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا

شکست حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیا

نگاہ نیچی کئے سر جھکا کے لوٹ لیا

دہائی ہے مرے اللہ کی دہائی ہے

کسی نے مجھ سے بھی مجھ کو چھپا کے لوٹ لیا

سلام اس پہ کہ جس نے اٹھا کے پردۂ دل

مجھی میں رہ کے مجھی میں سما کے لوٹ لیا

انہیں کے دل سے کوئی اس کی عظمتیں پوچھے

وہ ایک دل جسے سب کچھ لٹا کے لوٹ لیا

یہاں تو خود تری ہستی ہے عشق کو درکار

وہ اور ہوں گے جنہیں مسکرا کے لوٹ لیا

خوشا وہ جان جسے دی گئی امانت عشق

رہے وہ دل جسے اپنا بنا کے لوٹ لیا

نگاہ ڈال دی جس پر حسین آنکھوں نے

اسے بھی حسن مجسم بنا کے لوٹ لیا

بڑے وہ آئے دل و جاں کے لوٹنے والے

نظر سے چھیڑ دیا گدگدا کے لوٹ لیا

رہا خراب محبت ہی وہ جسے تو نے

خود اپنا درد محبت دکھا کے لوٹ لیا

کوئی یہ لوٹ تو دیکھے کہ اس نے جب چاہا

تمام ہستئ دل کو جگا کے لوٹ لیا

کرشما سازی حسن ازل ارے توبہ

مرا ہی آئینہ مجھ کو دکھا کے لوٹ لیا

نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکھڑیوں نے جگرؔ

نظر بچاتے ہوئے ڈبڈبا کے لوٹ لیا

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi