کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی
کلیاتِ جگر
Published 14 October 2026
کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی
بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی
نہیں جاتی کہاں تک فکر انسانی نہیں جاتی
مگر اپنی حقیقت آپ پہچانی نہیں جاتی
نگاہوں کو خزاں نا آشنا بننا تو آ جائے
چمن جب تک چمن ہے جلوہ سامانی نہیں جاتی
پشیمان ستم وہ دل ہی دل میں رہتے ہیں لیکن
خوشا حسنے کہ طرز ناپشیمانی نہیں جاتی
مزاج اہل دل بے کیف و مستی رہ نہیں سکتا
کہ جیسے نکہت گل سے پریشانی نہیں جاتی
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
بلندی چاہیئے انسان کی فطرت میں پوشیدہ
کوئی ہو بھیس لیکن شان سلطانی نہیں جاتی
گئے وہ دن کہ دل سرمایہ دار درد پیہم تھا
مگر آنکھوں کی اب تک میر سامانی نہیں جاتی
جسے رونق ترے قدموں نے دے کر چھین لی رونق
وہ لاکھ آباد ہو اس گھر کی ویرانی نہیں جاتی
وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی
وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی
مجھے تو کر دیا سیراب ساقی نے مرے لیکن
مری سیرابیوں کی تشنہ سامانی نہیں جاتی
نہیں معلوم کس عالم میں حسن یار دیکھا تھا
کوئی عالم ہو لیکن دل کی حیرانی نہیں جاتی
جلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر مٹے جاتے ہیں گر گر کر
حضور شمع پروانوں کی نادانی نہیں جاتی
محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
جگرؔ وہ بھی ز سر تا پا محبت ہی محبت ہیں
مگر ان کی محبت صاف پہچانی نہیں جاتی
جگر مراد آبادی
About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)
جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔