اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
کلیاتِ جگر
Published 14 October 2026
اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
عشق جب تک نہ کر چکے رسوا
آدمی کام کا نہیں ہوتا
ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشق
بیشتر دیر پا نہیں ہوتا
وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جب
ماسوا ماسوا نہیں ہوتا
ہائے کیا ہو گیا طبیعت کو
غم بھی راحت فزا نہیں ہوتا
دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے
ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا
جس پہ تیری نظر نہیں ہوتی
اس کی جانب خدا نہیں ہوتا
میں کہ بے زار عمر بھر کے لیے
دل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا
وہ ہمارے قریب ہوتے ہیں
جب ہمارا پتا نہیں ہوتا
دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے
جب کوئی آسرا نہیں ہوتا
ہو کے اک بار سامنا ان سے
پھر کبھی سامنا نہیں ہوتا
جگر مراد آبادی
About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)
جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔