Prof. Syed Mujahid Sajjad

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا

آیا جو میرے سامنے میرا غرور تھا

تاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھا

کیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا

وہ تھے نہ مجھ سے دور نہ میں ان سے دور تھا

آتا نہ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا

ہر وقت اک خمار تھا ہر دم سرور تھا

بوتل بغل میں تھی کہ دل ناصبور تھا

کوئی تو دردمند دل ناصبور تھا

مانا کہ تم نہ تھے کوئی تم سا ضرور تھا

لگتے ہی ٹھیس ٹوٹ گیا ساز آرزو

ملتے ہی آنکھ شیشۂ دل چور چور تھا

ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش

شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا

ساقی کی چشم مست کا کیا کیجیے بیان

اتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا

پلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامراد

یہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا

جس دل کو تم نے لطف سے اپنا بنا لیا

اس دل میں اک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا

اس چشم مے فروش سے کوئی نہ بچ سکا

سب کو بقدر حوصلۂ دل سرور تھا

دیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہ

اس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi