یہ صبح ِشامِ زوال ہے ترے آنسوؤں کا کمال ہے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
یہ صبح ِشامِ زوال ہے ترے آنسوؤں کا کمال ہے مِرے ساتھ دست ِدعا اٹھا کہ قبولیت کا یہ سال ہے
وہ جو ساحلوں کی مراد تھا وہ جو دھڑکنوں کی پکار تھا وہی اب کسی کی بھی آنکھ میں نہ جواب ہے نہ سوال ہے
مِری شام تو نے تو آسماں کی ردا کو سر پہ گرا لیا ذرا دیکھ شام کے موڑ پر کہ ردا کا ملنا محال ہے
نئی رات ہونے سے پیشتر تو گزشتہ شب کا حساب دے ترے ہاتھ میں کوئی ہاتھ تھا مِرے جی کو گہرا ملال ہے
میں کسی کی آنکھ کے نور سے ترے رنگ دیکھنے آگیا مجھے کیا خبر کہ یہ روشنی نہ چراغ ہے نہ ہلال ہے
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)