یہ جو بھی آج بزم میں بولا ہے آپ نے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
یہ جو بھی آج بزم میں بولا ہے آپ نے سچ بولیے کیا واقعی لکھا ہے آپ نے ؟
یہ جانتے ہوئے بھی کہ آنکھیں ہیں بے چراغ تحفے میں آئینہ مجھے بھیجا ہے آپ نے
گرچہ دل و بدن پہ کئی زخم ہیں مگر روتے ہوئے مجھے کبھی دیکھا ہے آپ نے؟
حالانکہ اس میں آپ کا کچھ تذکرہ نہیں کیوں سر گزشت کہنے سے روکا ہے آپ نے؟
وہ آشنائے درد مجاہدؔ نہیں رہا پھر کس کو بار بار بلایا ہے آپ نے؟
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)