ہوا کے سامنے رکھ کے دیا چلے آئے
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
ہوا کے سامنے رکھ کے دیا چلے آئے حسین ؑ جانبِ دشت ِ بلا چلے آئے
یہ زندگی کا تماشہ تمام ہوتے ہی تماش بین بنامِ وفا چلے آئے
میں ڈوبتے ہوئے سب کو بلا رہا تھا کہ جب تمام لوگ تمھارے سوا چلے آئے
کسی غریب کی بیٹی کا المیہ دیکھو جواں ہوئی تو کئی آشنا چلے آئے
سوال یہ تو نہیں تم نے کیوں بلایا ہے سوال یہ ہے کہ ہم کیوں بھلا چلے آئے
آنے والا وقت ہی یہ بتلائے گا کون کہاں کب کس کو چھوڑ کے جائے گا
گرچہ وقت کے دامن میں دن تھوڑے ہیں پھر بھی لگتا ہے وہ لوٹ کے آئے گا
دھڑکن دھڑکن ہر ایک سانس پہ سوچا کر کیا اس سانس میں کھوئے گا کیا پائے گا
ماں بیٹے سے رو رو کے یہ کہتی رہی مجھ کو چھوڑ کے جائے گا پچھتائے گا
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)