ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
Published 10 October 2026
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا کہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہوا
اب اس سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں بدن سے روح کا اس درجہ اشتراک ہوا
یہی کہ سب کی کمانیں ہمیں پہ ٹوٹی ہیں چلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا
وہ بے سبب یوں ہی روٹھا ہے لمحہ بھر کے لئے یہ سانحہ نہ سہی پھر بھی کرب ناک ہوا
اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخر وہ جس کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا
شدید وار نہ دشمن دلیر تھا محسنؔ میں اپنی بے خبری سے مگر ہلاک ہوا
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)