دھواں دھواں ہے یہ فضا، یہ آگ کس طرح لگی
Magar Manzar Nahi Mera
Published 3 November 2026
دھواں دھواں ہے یہ فضا، یہ آگ کس طرح لگی مِرے خدا، مِرے خدا، یہ آگ کس طرح لگی
یہ تیرے ساتھ کون تھا؟ نہیں، نہیں، کوئی نہیں نہ تھا کوئی تیرے سوا، یہ آگ کس طرح لگی
نہ پیرہن جلا، نہ میرے جسم ہی کو کچھ ہوا جلا تو صرف دل جلا، یہ آگ کس طرح لگی
یہ آتشِ جدیدیت میں خاک ہو گیا بشر یہ کیا ہوا، یہ کب ہوا، یہ آگ کس طرح لگی
دلھن بڑی اداس تھی وہ ایک رات جل گئی کوئی نہیں بتا سکا، یہ آگ کس طرح لگی
مجاہدؔ آج کس طرح ہوا کا رخ بدل گیا جو بچ گیا تھا جل گیا، یہ آگ کس طرح لگی
About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)
سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
More Urdu poetry by Mujahid Sajjad
- یہاں کلیاں ، یہاں کلیوں کی خوشبو کاٹ دیتے ہیں (Ghazal)
- فرصت ِپرسشِ حالات نہیں ہے تجھ کو (Ghazal)
- ڈُگڈُگی بج گئی اب خوب تماشا ہوگا (Ghazal)
- یہ تبسم تو ایک پردہ تھا (Ghazal)