Prof. Syed Mujahid Sajjad

بھول جاؤ مجھے

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

وہ تو یوں تھا کہ ہم

اپنی اپنی ضرورت کی خاطر

اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا

اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں

تیرہ و تار خواہش کی سنگلاخ راہوں پہ چلتے رہے

پھر بھی راہوں میں کتنے شگوفے کھلے

وہ تو یوں تھا کہ بڑھتے گئے سلسلے

ورنہ یوں ہے کہ ہم

اجنبی کل بھی تھے

اجنبی اب بھی ہیں

اب بھی یوں ہے کہ تم

ہر قسم توڑ دو

سب ضدیں چھوڑ دو

اور اگر یوں نہ تھا تو یوں ہی سوچ لو

تم نے اقرار ہی کب کیا تھا کہ میں

تم سے منسوب ہوں

میں نے اصرار ہی کب کیا تھا کہ تم

یاد آؤ مجھے

بھول جاؤ مجھے

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi