Prof. Syed Mujahid Sajjad

آنکھیں

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

آنکھیں کبھی دریا، کبھی دریا کا کنارا آنکھیں کبھی وحشت، کبھی وحشت میں سہارا آنکھیں کبھی ظلمت، کبھی ظلمت میں شرارہ آنکھیں کبھی قرآں، کبھی قرآن کا پارہ

آنکھیں کبھی کعبہ، کبھی مسجد، کبھی مندر، آنکھیں کبھی بہتا ہوا خوابوں کا سمندر آنکھیں کبھی عُریاں، کبھی تطہیر کی چادر آنکھوں میں کبھی بحرِ کرامات کا منظر

آنکھیں کبھی اشکوں کی زباں بول رہی ہیں آنکھیں کبھی رازوں کے جہاں کھول رہی ہیں آنکھیں کبھی اَرزاں، کبھی انمول رہی ہیں آنکھیں کبھی خوابوں کی زباں بول رہی ہیں

آنکھوں سے چھلک جاتا ہے ہر دل کا فسانہ آنکھوں میں سمٹ آتا ہے ہر ایک زمانہ آنکھوں سے عیاں ہے غمِ دوراں، غمِ جاناں آنکھوں سے ہے رونا کبھی، ہنسنا کبھی، گانا

آنکھوں میں خزانے ہیں اگر تابِ نظر ہو آنکھوں میں زمانے ہیں اگر دل پہ اثر ہو آنکھوں ہی میں جلوے ہیں اگر ذوقِ سحر ہو آنکھوں میں مدینہ ہے اگر تم کو خبر ہو

آنکھوں میں ہو گر دھول تو پھر چاند بھی میلا آنکھوں میں تعصب ہو تو ہر رنگ ہی کالا آنکھوں پہ ہو پردہ تو کہاں کوئی اُجالا آنکھوں نے تحیر کے طلسمات میں ڈالا

آنکھیں کبھی نبیوں کے خد و خال کا حصہ آنکھیں کبھی ولیوں کے مہ و سال کا حصہ آنکھیں کبھی فرعون سے دجال کا حصہ آنکھیں ہی شیاطین کے افعال کا حصہ

آنکھوں سے برستے ہیں غمِ ہجر کے آنسو آنکھوں میں بسے رہتے ہیں محبوب کے گیسو آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے کردار کی خوشبو آنکھوں سے نظر آتا ہے صد شکر ہمیں تو

ہو آنکھ اگر دل کی تو ہر آنکھ سے بہتر اس آنکھ سے آتا ہے نظر عرش کا منظر ہوتا ہے اسی آنکھ میں جبریل کا پیکر کونین سما جاتی ہیں اس آنکھ کے اندر

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad