Prof. Syed Mujahid Sajjad

اجداد کے رستے پہ جو چپ چاپ چلا ہوں

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

اجداد کے رستے پہ جو چپ چاپ چلا ہوں تاثیرِ قفس زیرِ کفن دیکھ رہا ہوں

لوگو مرے حصے کی مصیبت بھی عجب ہے اشکوں سے جو نکلا ہوں تو آہوں میں گرا ہوں

ہر دم مرے جذبات بھی مصلوب ہوئے ہیں لگتا ہے کہ دنیا کو میں صدقے میں ملا ہوں

لوگو مجھے احساسِ زیاں مار گیا ہے میں روح کے زخموں کا لہو پونچھ رہا ہوں

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad