Prof. Syed Mujahid Sajjad

ابھی آنکھوں میں اشکوں کا ذخیرہ ہے، سو رونے دو

Mujahid Sajjad

Magar Manzar Nahi Mera

Published 3 November 2026

ابھی آنکھوں میں اشکوں کا ذخیرہ ہے، سو رونے دو جدائی کا ابھی تو زخم تازہ ہے، سو رونے دو

یہاں ہر شہر کوفہ ہے، یہاں ہر دشت کربل ہے ستم ہے، بے وفائی ہے، تماشا ہے، سو رونے دو

نہ رونے سے تو دل کا بوجھ، دل کو توڑ دیتا ہے گھٹن میں، درد میں رونا ہی اچھا ہے، سو رونے دو

مِرے سر پر ابھی سے موت کے پنچھی کی پرواز یں ادھورا ہے ابھی ہر سانس ادھورا ہے، سو رونے دو

مٹا ڈالے مشینوں نے ہمارے فاصلے لیکن مجاہد ؔبزمِ یاراں میں بھی تنہا ہے، سو رونے دو

About Mujahid Sajjad (مجاہد سجاد)

سید مجاہد سجاد اردو زبان کے شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ سرکاری گریجویٹ کالج بریوالہ میں انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ وہ اردو شاعری، تنقید اور مضامین کی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Read all poetry by Mujahid Sajjad

More Urdu poetry by Mujahid Sajjad