Prof. Syed Mujahid Sajjad

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں

موسم وصل کی کرنوں کا وہ انبوہ رواں

جس کے ہم راہ کسی زہرہ جبیں کی ڈولی

ایسے اتری تھی کہ جیسے کوئی آیت اترے

ہجر کی شام کے بکھرے ہوئے کاجل کی لکیر

جس نے آنکھوں کے گلابوں پہ شفق چھڑکی تھی

جیسے خوشبو کسی جنگل میں برہنہ ٹھہرے

خلقت شہر کی جانب سے ملامت کا عذاب

جس نے اکثر مجھے ہونے کا یقیں بخشا تھا

دست اعدائیں وہ کھنچتی ہوئی تہمت کی کماں

بارش سنگ میں کھلتی ہوئی تیروں کی دکاں

مہرباں دوست رفاقت کا بھرم رکھتے ہوئے

اجنبی لوگ دل و جاں میں قدم رکھتے ہوئے

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

کتنے روٹھے ہوئے ساتھی مجھے یاد آئے ہیں

اب نہ پندار وفا ہے نہ محبت کی جزا

دست اعداء کی کشش ہے نہ رفیقوں کی سزا

تختۂ دار نہ منصب نہ عدالت کی خلش

اب تو اک چیخ سی ہونٹوں میں دبی رہتی ہے

راس آئے گا کسے دشت بلا میرے بعد

کون مانگے گا اجڑنے کی دعا میرے بعد

آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi