Prof. Syed Mujahid Sajjad

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

ظفر علی خان

کلیاتِ ظفر علی خان

Published 14 October 2026

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا

گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی

دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا ایک نام اس کا

ہر اک ذرہ فضا کا داستان اس کی سناتا ہے

ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا

میں اس کو کعبہ و بت خانہ میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں

مرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے قیام اس کا

مری افتاد کی بھی میرے حق میں اس کی رحمت تھی

کہ گرتے گرتے بھی میں نے لیا دامن ہے تھام اس کا

وہ خود بھی بے نشاں ہے زخم بھی ہیں بے نشاں اس کے

دیا ہے اس نے جو چرکا نہیں ہے التیام اس کا

نہ جا اس کے تحمل پر کہ ہے اب ڈھب گرفت اس کی

ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا

About Zafar Ali Khan (ظفر علی خان)

ظفر علی خان (1873 – 1956) صحافی، سیاست دان اور شاعر تھے۔ انھوں نے اخبار زمیندار جاری کیا اور تحریکِ آزادی میں حصہ لیا۔ بہارستان ان کے کلام کا مجموعہ ہے۔

Read all poetry by Zafar Ali Khan

More Urdu poetry by Zafar Ali Khan