شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بساند
کلیاتِ شکیب جلالی
Published 14 October 2026
شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بساند
اور ہوا چلتی تھی جیسے
اس کے زخمی ہوں قدم
دیدۂ مہر نے ان جانے خطر سے مڑ کر
جاتے جاتے بڑی حسرت سے کئی بار زمیں کو دیکھا
لیکن اس سبز لکیر
اس درختوں کی ہری باڑ کے پار
کچھ نہ پایا کوئی شعلہ نہ شرار
اور پھر رات کے تنور سے ابلا پانی
تیرگیوں کا سیہ فوارہ
دیکھتے دیکھتے تصویر ہر ایک چیز کی دھندلانے لگی
دور تک کالے سمندر کی ہمکتی لہریں
ہانپتے سینوں کی مانند کراں تا کراں پھیل گئیں
اور جب رات پڑی
سسکیاں بن گئیں جھونکوں کی صدا
دم بخود ہو گئے اس وقت در و بام
جیسے آہٹ کسی طوفاں کی سنا چاہتے ہوں
آنکھیں مل مل کے چراغوں کی لوؤں نے دیکھا
لیکن اس سبز لکیر
اس درختوں کی ہری باڑ کے پار
کچھ نہ پایا کوئی شعلہ نہ شرار
رات کے پچھلے پہر
ناگہاں نیند سے چونکی جو زمین
اس کے ہونٹوں پہ تھی غم ناک کراہ
کرب انگیز کراہ
اس کے سینے پہ رواں
بوٹ لوہے کے گمکتے ہوئے بوٹ
جس طرح کانچ کی چادر پہ لڑکھتی ہوئی پتھر کی سلیں
ہر قدم ایک نئی چیخ جنم لیتی تھی
خاک سے داد ستم لیتی تھی
About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔