Prof. Syed Mujahid Sajjad

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کو

بھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کو

رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں

اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو

اشکوں کی ایک نہر تھی جو خشک ہو گئی

کیوں کر مٹاؤں دل سے ترے غم کی چھاپ کو

کتنا ہی بے کنار سمندر ہو پھر بھی دوست

رہتا ہے بے قرار ندی کے ملاپ کو

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں

پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

تعریف کیا ہو قامت دل دار کی شکیبؔ

تجسیم کر دیا ہے کسی نے الاپ کو

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali