یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے
کلیاتِ شکیب جلالی
Published 14 October 2026
یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے
جس کے فٹ پاتھ فقیروں سے اٹے رہتے ہیں
خستہ کپڑوں میں یہ لپٹے ہوئے مریل ڈھانچے
یہ بھکاری کہ جنہیں دیکھ کے گھن آتی ہے
ہڈیاں جسم کی نکلی ہوئی پچکے ہوئے گال
میلے سر میں جوئیں، اعضا سے ٹپکتا ہوا کوڑھ
روح بیمار، بدن سست، نگاہیں پامال
ہاتھ پھیلائے پڑے رہتے ہیں روگی انسان
چند بیواؤں کے مدقوق سے پیلے چہرے
کچھ ہوس کار نگاہوں میں اتر جاتے ہیں
جن کے افلاس زدہ جسم، ڈھلکتے سینے
چند سکوں کے عوض شب کو بکا کرتے ہیں
شدت فاقہ سے روتے ہوئے ننھے بچے
ایک روٹی کے نوالے سے بہل جاتے ہیں
یا سر شام ہی سو جاتے ہیں بھوکے پیاسے
ماں کی سوکھی ہوئی چھاتی کو دبا کر منہ میں
چند بد زیب سے شہرت زدہ انساں اکثر
اپنی دولت و سخاوت کی نمائش کے لیے
یا کبھی رحم کے جذبے سے حرارت پا کر
چار چھ پیسے انہیں بخش دیا کرتے ہیں
کیا فقط رحم کی حق دار ہیں ننگی روحیں؟
کیوں یہ انسانوں پہ انسان ترس کھاتے ہیں؟
کیوں انہیں دیکھ کے احساس تہی دستی ہے
اکثر اوقات میں کترا کے نکل جاتا ہوں؟
یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے
About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔