مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرو
کلیاتِ شکیب جلالی
Published 14 October 2026
مریض غم کے سہارو کوئی تو بات کرو
اداس چاند ستارو کوئی تو بات کرو
کہاں ہے ڈوب چکا اب تو ڈوبنے والا
شکستہ دل سے کنارو کوئی تو بات کرو
مرے نصیب کو بربادیوں سے نسبت ہے
لٹی ہوئی سی بہارو کوئی تو بات کرو
کہاں گیا وہ تمہارا بلندیوں کا جنون
بجھے بجھے سے شرارو کوئی تو بات کرو
اسی طرح سے عجب کیا جو کچھ سکون ملے
غم فراق کے مارو کوئی تو بات کرو
تمہارا غم بھی مٹاتی ہیں مستیاں کہ نہیں
شراب ناب کے مارو کوئی تو بات کرو
تمہاری خاک اڑاتا نہیں شکیبؔ تو کیا
اداس راہ گزارو کوئی تو بات کرو
About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔