Prof. Syed Mujahid Sajjad

سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں

کسی نے پھول پروئے کسی نے خار چنے

بنام اذن تکلم بنام جبر سکوت

کسی نے ہونٹ چبائے کسی نے گیت بنے

بڑے غضب کا گلستاں میں جشن عید ہوا

کہیں تو بجلیاں کوندیں کہیں چنار جلے

کہیں کہیں کوئی فانوس بھی نظر آیا

بطور خاص مگر قلب داغ دار جلے

عجب تھی عید خمستاں عجب تھا رنگ نشاط

کسی نے بادہ و ساغر کسی نے اشک پئے

کسی نے اطلس و کمخواب کی قبا پہنی

کسی نے چاک گریباں کسی نے زخم سیے

ہمارے ذوق نظارہ کو عید کے دن بھی

کہیں پہ سایۂ ظلمت کہیں پہ نور ملا

کسی نے دیدہ و دل کے کنول کھلے ��ائے

کسی کو ساغر احساس چکنا چور ملا

بہ فیض عید بھی پیدا ہوئی نہ یک رنگی

کوئی ملول کوئی غم سے بے نیاز رہا

بڑا غضب ہے خدا وند کوثر و تسنیم

کہ روز عید بھی طبقوں کا امتیاز رہا

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali