Prof. Syed Mujahid Sajjad

غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

غم دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں

جو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیں

اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے

سب کا اس دور میں یہ حال ہے میرا ہی نہیں

برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے

میں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کی بیٹھا ہی نہیں

اک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا

کون سا عرش ہے جس کا کوئی زینہ ہی نہیں

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید

آئنہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اٹھائے گزرا

کوئی اس شہر میں سستانے کو ٹھہرا ہی نہیں

سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم

تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں

موتی کیا کیا نہ پرے ہیں تہ دریا لیکن

برف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں

اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے

خانۂ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں

حائل راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پربت

تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں

یاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیبؔ

اس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali