کس طرح ریت کے سمندر میں
کلیاتِ شکیب جلالی
Published 14 October 2026
کس طرح ریت کے سمندر میں
کشتیٔ زیست ہے رواں سوچو
سن کے باد صبا کی سرگوشی
کیوں لرزتی ہیں پتیاں سوچو
پتھروں کی پناہ میں کیوں ہے
آئنہ ساز کی دکاں سوچو
اصل سرچشمۂ وفا کیا ہے
وجہ بے مہریٔ بتاں سوچو
ذوق تعمیر کیوں نہیں مٹتا
کیوں اجڑتی ہیں بستیاں سوچو
فکر سقراط ہے کہ زہر کا گھونٹ
باعث عمر جاوداں سوچو
لوگ معنی تراش ہی لیں گے
کوئی بے ربط داستاں سوچو
About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)
شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔