Prof. Syed Mujahid Sajjad

مرجھا کے کالی جھیل میں

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

سورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ

ہرچند راکھ ہوکے بکھرنا ہے راہ میں

جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ

عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر

دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ

تونے کہا تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں

آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

بچھتی تھی جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں

اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ

کیا شاخ باثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو

نظریں اٹھا شکیب کبھی سامنے بھی دیکھ

شکیب جلالی

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali