Prof. Syed Mujahid Sajjad

قریہ قریہ

شکیب جلالی

کلیاتِ شکیب جلالی

Published 14 October 2026

کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں

قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوں

نورِ منزل مجھے نصیب کہاں

میں ابھی حلقۂِ غبار میں ہوں

یہ ہے تاکید سننے والوں کی

واقعہ خوشگوار ہو تو کہوں

کن اندھیروں میں کھو گئی ہے سحر

چاند تاروں پہ مار کر شب خوں

تم جسے نورِ صبح کہتے ہو

میں اسے گردِ شام بھی نہ کہوں

اب تو خونِ جگر بھی ختم ہوا

میں کہاں تک خلا میں رنگ بھروں

جی میں آتا ہے اے رہِ ظلمت

کہکشاں کو مروڑ کر رکھ دوں

شکیب جلالی

About Shakeb Jalali (شکیب جلالی)

شکیب جلالی (1934 – 1966) اردو کے شاعر تھے جن کا کلام آزادی کے بعد کی اردو شاعری پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Read all poetry by Shakeb Jalali

More Urdu poetry by Shakeb Jalali