تقیہ
Published 13 October 2026
سو اب یہ شرط حیات ٹھہری
کہ شہر کے سب نجیب افراد
اپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیں
وہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میں
ان کی آنکھوں کے رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھے
سنا ہے باطل قرار پائے
وہ سب وفاداریاں کہ جن پر لہو کے وعدے حلف ہوئے تھے
وہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں گی
بدن کی وابستگی کا کیا ذکر
روح کے عہد نامے تک فسخ مانے جائیں
خموشی و مصلحت پسندی میں خیریت ہے
مگر مرے شہر منحرف میں
ابھی کچھ ایسے غیور و صادق بقید جاں ہیں
کہ حرف انکار جن کی قسمت نہیں بنا ہے
سو حاکم شہر جب بھی اپنے غلام زادے
انہیں گرفتار کرنے بھیجے
تو ساتھ میں ایک ایک کا شجرۂ نسب بھی روانہ کرنا
اور ان کے ہم راہ سرد پتھر میں چننے دینا
کہ آج سے جب
ہزارہا سال بعد ہم بھی
کسی زمانے کے ٹیکسلایا ھڑپہ بن کر تلاشے جائیں
تو اس زمانے کے لوگ
ہم کو
کہیں بہت کم نسب نہ جانیں
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔