Prof. Syed Mujahid Sajjad

قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے

Parveen Shakir

Published 13 October 2026

قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے

وہ مرے دل پہ نیا زخم لگانے آئے

میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے

وہ مرے گھر کے در و بام سجانے آئے

اس سے اک بار تو روٹھوں میں اسی کی مانند

اور مری طرح سے وہ مجھ کو منانے آئے

اسی کوچے میں کئی اس کے شناسا بھی تو ہیں

وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے

اب نہ پوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پتہ

وہ اگر آئے تو کچھ بھی نہ بتانے آئے

ضبط کی شہر پناہوں کی مرے مالک خیر

غم کا سیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir