Prof. Syed Mujahid Sajjad

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

Parveen Shakir

صد برگ

Published 13 October 2026

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے

دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے

برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر

اک عمر مرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے

چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

محنت مری آندھی سے تو منسوب نہیں تھی

رہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے

خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ میں

میں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے

بے نام مسافت ہی مقدر ہے تو کیا غم

منزل کا تعین کبھی ہوتا ہے سفر سے

پتھرایا ہے دل یوں کہ کوئی اسم پڑھا جائے

یہ شہر نکلتا نہیں جادو کے اثر سے

نکلے ہیں تو رستے میں کہیں شام بھی ہوگی

سورج بھی مگر آئے گا اس راہگزر سے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir