Prof. Syed Mujahid Sajjad

لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی

Parveen Shakir

Published 13 October 2026

اس عمر کے بعد اس کو دیکھا!

آنکھوں میں سوال تھے ہزاروں

ہونٹوں پہ مگر وہی تبسم!

چہرے پہ لکھی ہوئی اداسی

لہجے میں مگر بلا کا ٹھہراؤ

آواز میں گونجتی جدائی

بانہیں تھیں مگر وصال ساماں!

سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میں

تا دیر میں سوچتی رہی تھی

کس ابر گریز پا کی خاطر

میں کیسے شجر سے کٹ گئی تھی

کس چھاؤں کو ترک کر دیا تھا

میں اس کے گلے لگی ہوئی تھی

وہ پونچھ رہا تھا مرے آنسو

لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی!

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir