Prof. Syed Mujahid Sajjad

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے

Parveen Shakir

خود کلامی

Published 13 October 2026

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے

پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیے

نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لو

اے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہیے

ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہو

مقتل میں اب بہ طرز دگر جانا چاہیے

کیا چل سکیں گے جن کا فقط مسئلہ یہ ہے

جانے سے پہلے رخت سفر جانا چاہیے

سارا جوار بھاٹا مرے دل میں ہے مگر

الزام یہ بھی چاند کے سر جانا چاہیے

جب بھی گئے عذاب در و بام تھا وہی

آخر کو کتنی دیر سے گھر جانا چاہیے

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے

ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir