خواب
Published 13 October 2026
کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاں
نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی
بات بے بات ہنستی ہوئی
اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں
جو خاموش تھیں
ان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھی
ان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا!
آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!
دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچی
ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر
ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی
اور میں سوچتی تھی
خدایا! یہ ہم لڑکیاں
کچی عمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیں
خواب کی حکمرانی میں کتنا تسلسل رہا ہے!
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔