کنگن بیلے کا
Published 13 October 2026
اس نے میرے ہاتھ میں باندھا
اجلا کنگن بیلے کا
پہلے پیار سے تھامی کلائی
بعد اس کے ہولے ہولے پہنایا
گہنا پھولوں کا
پھر جھک کر ہاتھ کو چوم لیا
پھول تو آخر پھول ہی تھے
مرجھا ہی گئے
لیکن میری راتیں ان کی خوشبو سے اب تک روشن ہیں
بانہوں پر وہ لمس ابھی تک تازہ ہے
شاخ صنوبر پر اک چاند دمکتا ہے
پھول کا گہنا
پریم کا کنگن
پیار کا بندھن
اب تک میری یاد کے ہاتھ سے لپٹا ہوا ہے
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔