جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
Published 13 October 2026
جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
آئنہ خانے کی حیرت سے تجھے دیکھتے ہیں
وہ جو پامال زمانہ ہیں مرے تخت نشیں
دیکھ تو کیسی محبت سے تجھے دیکھتے ہیں
کاسۂ دید میں بس ایک جھلک کا سکہ
ہم فقیروں کی قناعت سے تجھے دیکھتے ہیں
تیرے جانے کا خیال آتا ہے گھر سے جس دم
در و دیوار کی حسرت سے تجھے دیکھتے ہیں
تیرے کوچے میں چلے جاتے ہیں قاصد بن کر
اور اکثر اسی صورت سے تجھے دیکھتے ہیں
کہہ گئی باد صبا آج ترے کان میں کیا
پھول کس درجہ شرارت سے تجھے دیکھتے ہیں
تجھ کو کیا علم تجھے ہارنے والے کچھ لوگ
کس قدر سخت ندامت سے تجھے دیکھتے ہیں
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔