Prof. Syed Mujahid Sajjad

فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن

Parveen Shakir

Published 13 October 2026

دل آزاری بھی اک فن ہے

اور کچھ لوگ تو

ساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیں

چاہے ان کا برج کوئی ہو

عقرب ہی لگتے ہیں

تیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہ

اپنی یرقانی سوچوں سے

اور بھی زردی ملتے رہتے ہیں

مالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹل

کہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتے

اوپر سے اس عمل کو

فقرے بازی کہتے ہیں

جس کا پہلا نشانہ عموما

بل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے!

اپنے اپنے کنوئیں کو بحر اعظم کہنے اور سمجھنے والے

یہ ننھے مینڈک

ہر ہاتھی کو دیکھ کے پھولنے لگے ہیں

اور جب پھٹنے والے ہوں تو

ہاتھی کی آنکھوں پر پھبتی کسنے لگے ہیں

کوے بھی انڈے کھانے کے شوق کو اپنے

فاختہ کے گھر جا کر پورا کرتے ہیں

لیکن یہ وہ سانپ ہیں جو کہ

اپنے بچے

خود ہی چٹ کر جاتے ہیں

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ

سانپوں کی یہ خصلت

مالک جن و انس کی، انسانوں کے حق میں

کیسی بے پایاں رحمت ہے!

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir