Prof. Syed Mujahid Sajjad

دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر

Parveen Shakir

صد برگ

Published 13 October 2026

دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر

برف جب پگھلتی ہے اس کی نرم پلکوں پر

پھر بہار کے ساتھی آ گئے ٹھکانوں پر

سرخ سرخ گھر نکلے سبز سبز شاخوں پر

جسم و جاں سے اترے گی گرد پچھلے موسم کی

دھو رہی ہیں سب چڑیاں اپنے پنکھ چشموں پر

ساری رات سوتے میں مسکرا رہا تھا وہ

جیسے کوئی سپنا سا کانپتا تھا ہونٹوں پر

تتلیاں پکڑنے میں دور تک نکل جانا

کتنا اچھا لگتا ہے پھول جیسے بچوں پر

لہر لہر کرنوں کو چھیڑ کر گزرتی ہے

چاندنی اترتی ہے جب شریر جھرنوں پر

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir