Prof. Syed Mujahid Sajjad

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

Parveen Shakir

Published 13 October 2026

ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے

میں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیے

بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی

اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے

پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب

ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے

تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے

ہم نے خود اپنے پاؤں میں کانٹے چبھو لیے

میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی

سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رو لیے

خوش بو کہیں نہ جائے پہ اصرار ہے بہت

اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے

تصویر جب نئی ہے نیا کینوس بھی ہے

پھر طشتری میں رنگ پرانے نہ گھولیے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir