Prof. Syed Mujahid Sajjad

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے

Parveen Shakir

ماہِ تمام

Published 13 October 2026

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے

شام کے وقت سفر کیا کرتے

تیری مصروفیتیں جانتے ہیں

اپنے آنے کی خبر کیا کرتے

جب ستارے ہی نہیں مل پائے

لے کے ہم شمس و قمر کیا کرتے

وہ مسافر ہی کھلی دھوپ کا تھا

سائے پھیلا کے شجر کیا کرتے

خاک ہی اول و آخر ٹھہری

کر کے ذرے کو گہر کیا کرتے

رائے پہلے سے بنا لی تو نے

دل میں اب ہم ترے گھر کیا کرتے

عشق نے سارے سلیقے بخشے

حسن سے کسب ہنر کیا کرتے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir