Prof. Syed Mujahid Sajjad

آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں

Parveen Shakir

منتخب غزلیں-1982

Published 13 October 2026

آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں

اے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوں

دستک تو کچھ ایسی ہے کہ دل چھونے لگی ہے

اس حبس میں بارش کا یہ جھونکا بھی تو دیکھوں

صحرا کی طرح رہتے ہوئے تھک گئیں آنکھیں

دکھ کہتا ہے میں اب کوئی دریا بھی تو دیکھوں

یہ کیا کہ وہ جب چاہے مجھے چھین لے مجھ سے

اپنے لئے وہ شخص تڑپتا بھی تو دیکھوں

اب تک تو مرے شعر حوالہ رہے تیرا

اب میں تری رسوائی کا چرچا بھی تو دیکھوں

اب تک جو سراب آئے تھے انجانے میں آئے

پہچانے ہوئے رستوں کا دھوکا بھی تو دیکھوں

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir