فلک کا ایک تقاضا تھا ابن آدم سے
کلیاتِ مصطفیٰ زیدی
Published 15 October 2026
فلک کا ایک تقاضا تھا ابن آدم سے
سلگ سلگ کے رہے اور پلک جھپک نہ سکے
ترس رہا ہو فضا کا مہیب سناٹا
سڈول پاؤں کی پائل مگر چھنک نہ سکے
کلی کے اذن تبسم کے ساتھ شرط یہ ہے
کہ دیر تک کسی آغوش میں مہک نہ سکے
میں سوچتا ہوں کہ یہ تیری بے حجاب ہنسی!
مزاج زیست سے اس درجہ مختلف کیوں ہے
یہ ایک شمع جسے صبح کا یقین نہیں
جگر کے زخم فروزاں سے منحرف کیوں ہے
بھرا ہوا ہے نگاہوں میں زندگی کے دھواں
بس ایک شعلۂ شب تاب میں شرر کیوں ہے
مرے وجود میں جس سے کئی خراشیں ہیں
وہ اک شکن ترے ماتھے پہ مختصر کیوں ہے
جمی ہوئی ہے ستاروں پہ آنسوؤں کی نمی
ترے چراغ کی لو اتنی تیز تر کیوں ہے
نئے شوالے میں جا کر کسی کے تیشے نے
بہت سے بت تو گرائے بہت سے بت نہ گرے
بس ایک خندۂ بے باک ہی سے کیا ہوگا
لہو کی زحمت اقدام بھی ضروری ہے
ذرا سی جرأت ادراک ہی سے کیا ہوگا
گریز و رجعت و تخریب ہی سہی لیکن
کوئی تڑپ، کوئی حسرت، کوئی مراد تو ہے
تری ہنسی سے تو میری شکست ہے بہتر
مری شکست میں تھوڑا سا اعتماد تو ہے
About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)
مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔