Prof. Syed Mujahid Sajjad

چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں

مصطفیٰ زیدی

کلیاتِ مصطفیٰ زیدی

Published 15 October 2026

چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میں

وہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا

یہاں تمہاری نظر سے بھی دیپ جل نہ سکے

یہاں تمہارا تبسم بھی کام کر نہ سکا

لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک

دل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی

جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن

مرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی

نہ جانے کس لئے اس انتہائے حدت پر

مرا دماغ سلگتا ہے جل نہیں جاتا

نہ جانے کیوں ہر اک امید لوٹ جانے پر

مرے خیال کا لاوا پگھل نہیں جاتا

نہ جانے کون سے ہونٹوں کا آسرا پا کر

تمہارے ہونٹ مری تشنگی کو بھول گئے

وہی اصول جو محکم تھے نرم سائے میں

ذرا سی دھوپ میں نکلے تو جھول جھول گئے

About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)

مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔

Read all poetry by Mustafa Zaidi

More Urdu poetry by Mustafa Zaidi