Prof. Syed Mujahid Sajjad

میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش

مصطفیٰ زیدی

کلیاتِ مصطفیٰ زیدی

Published 15 October 2026

میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش

اپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے

میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو

سالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے

جہد ہستی کی کڑی دھوپ میں تھک جانے پر

جس کی آغوش نے بخشا ہے مجھے ماں کا خلوص

جس کی خاموش عنایت کی سہانی یادیں

لوریاں بن کے مرے دل میں سما جاتی ہیں

میری تنہائی کے احساس کو زائل کرنے

جس کی دیواریں مرے پاس چلی آتی ہیں

سامنے طاق پہ رکھی ہوئی دو تصویریں

اکثر اوقات مجھے پیار سے یوں تکتی ہیں

جیسے میں دور کسی دیس کا شہزادہ ہوں

میرا کمرہ مرے ماضی کا حقیقی مونس

آج ہر فکر ہر احساس سے بیگانہ ہے

اپنے ہم راز کواڑوں کے احاطے کے عوض

آج میں جیسے مزاروں پہ چلا آیا ہوں

گرد آلودہ کلنڈر پہ اجنتا کے نقوش

میرے چہرے کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیں

جیسے اک لاش کی پھیلی ہوئی بے بس آنکھیں

اپنے مجبور عزیزوں کو تکا کرتی ہیں

یہ کتابیں بھی مرا ساتھ نہیں دیتیں آج

کیٹسؔ کی نظم ارسطوؔ کے حکیمانہ قول

سنگ مرمر کی عمارت کی طرح ساکت ہیں

تو ہی کچھ بات کر اے میرے دھڑکتے ہوئے دل

تو ہی اک میرا سہارا ہے مرا مونس ہے

تو ہی اس سرد اندھیرے میں چراغاں کر دے

لکشمی دیوی تو مری بات نہیں سن سکتیں

مجھ کو معلوم ہے کیا بیت چکی ہے تجھ پر

میرے چہرے کے سلگتے ہوئے زخموں کو بھی دیکھ

میری آنکھوں پہ مری فکر پہ پابندی ہے

میں اسے چاہوں بھی تو یاد نہیں کر سکتا

تو اسے کھو کے مچل سکتا ہے رو سکتا ہے

اور میں لٹ کے بھی فریاد نہیں کر سکتا

اسی آئینے نے دیکھے ہیں ہمارے جھگڑے

یہی زینہ ہے جہاں میں نے اسے چوما تھا

ان قمیضوں میں ان الجھے ہوئے رومالوں میں

اس کے بالوں کی مہک آج بھی آسودہ ہے

جو کبھی میری تھی انکار پہ بھی میری تھی

اب فقط بزم تصور میں نظر آتی ہے

رات بھر جاگ کے لکھی ہوئی تحریروں سے

اب بھی ان آنکھوں کی تصویر ابھر آتی ہے

چاندنی کھل کے نکھر آئی ہے دروازے پر

اوس سے بھیگتے جاتے ہیں پرانے گملے

کس قدر نرم ہے کلیوں کا سہانا سایہ

جیسے وہ ہونٹ جنہیں پا کے بھی میں پا نہ سکا

اے تڑپتے ہوئے دل اور سنبھل اور سنبھل

یہ تری چاپ سے جاگ اٹھیں گی تو کیا ہوگا

صبح کیا جانے کہاں ہوتی ہے کب ہوتی ہے

جانے انسان نے کس وقت یہ نعمت پائی

میری قسمت میں بس اک سلسلۂ شام و سحر

میرے کمرے کے مقدر میں فقط تنہائی

About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)

مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔

Read all poetry by Mustafa Zaidi

More Urdu poetry by Mustafa Zaidi