Prof. Syed Mujahid Sajjad

گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہو

مصطفیٰ زیدی

کلیاتِ مصطفیٰ زیدی

Published 15 October 2026

گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہو

نرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلاف

خود کو دل تھام کے مرغان گرفتار کہو

رات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جاؤ

صبح اٹھو تو اسے شاہد بازار کہو

ذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہے

فرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو

اسی رفتار سے چلتا ہے جہان گزراں

انہی قدموں پہ زمانے کے قدم اٹھتے ہیں

کوئی عینک سے دکھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں

کوئی کاندھوں پہ اٹھاتا ہے تو ہم اٹھتے ہیں

ایک رقاصۂ طناز کی محفل ہے جہاں

کبھی آتے ہیں بھتیجے کبھی عم اٹھتے ہیں

کبھی اک گوشۂ تاریک کے ویرانے میں

کسی جگنو کے چمکنے پہ فغاں ہوتی ہے

کبھی اس مرحمت خاص کا اندازہ نہیں

کبھی دو بوند چھلکنے پہ فغاں ہوتی ہے

کبھی منزل کے تصور سے جگر جلتے ہیں

کبھی صحرا میں بھٹکنے پہ فغاں ہوتی ہے

ہم نے اس چور کو سینوں میں دبا رکھا ہے

ہم اسی چور کے خطرے سے پریشان بھی ہیں

کون سمجھے گا کہ اس سطح خوش آواز کے بعد

اسی ٹھہرے ہوئے تالاب میں طوفان بھی ہیں

بھائی کی آنکھ کے کانٹے پہ نظر ہے سب کی

دیوتا بھی ہیں اسی بزم میں انسان بھی ہیں

خط سرطان سے آتی ہے ملر کی آواز

اور امریکہ کے بازار میں کھو جاتی ہے

جائس کی فکر نے تعمیر کیا ہے جس کو

وہ زمیں حسرت معمار میں کھو جاتی ہے

کبھی منٹو کا قلم بن کے دہکتی ہے حیات

کبھی سرمائے کی تلوار میں کھو جاتی ہے

ہر پیمبر پہ ہنسا ہے یہ زمانہ لیکن

ہر پیمبر نے جھکائی ہے زمانے کی جبیں

اپنے ہم عصر سے خائف نہ ہو اے وقت کی آنچ

اس کی مٹی میں ستاروں کا دھواں ہے کہ نہیں

اسی مٹی سے دمکتی ہے یہ دھرتی ورنہ

درد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں

جسم کے داغ چھپانا تو کوئی بات نہیں

روح کے زخم سلگتے ہیں پس پردۂ دل

سر چھپا لیتے ہو تم ریت میں جس کے آگے

اسی طوفان میں گھر جاتے ہیں لاکھوں ساحل

ایک راہی جسے احساس نہ حسرت نہ طلب

اک سفر جس میں نہ منزل نہ سراغ منزل

اپنی حساس سبک ناک سے رومال ہٹاؤ

کھاد میں محض تعفن ہی نہیں خیز بھی ہے

ذوق درکار ہے قطرے کو گہر کرنے میں

یہ مئے ناب پر اسرار بھی ہے تیز بھی ہے

کچھ تو ہے وجۂ دل آزاری و آہنگ و ستیز

ورنہ یہ طبع خوش اخلاق و کم آمیز بھی ہے

شہر کی تیرہ و تاریک گزر گاہوں میں

داستاں ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا

زیست قانون و فرامین قفس کے آگے

بے زباں ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا

اس شفا خانۂ اخلاق میں نشتر کے قریب

رگ جاں ہوگی تو منٹو کا قلم لکھے گا

گوپی ناتھ اور ظفر شاہ کے جیسے کردار

کتنی گمنامی میں جی لیتے ہیں مر جاتے ہیں

کس نے ان آنکھوں میں وہ خواب لہکتے دیکھے

جو اس انسانوں کے جنگل میں بکھر جاتے ہیں

کس کا آئینہ ہے موذیل کی اس روح کا عکس

جس میں مریم کے حسیں نقش نکھر جاتے ہیں

اے نئے عصر کی رگ رگ کو سمجھنے والے

فہم و ادراک بدی ہیں تو بدی تیری ہے

چند لمحوں کی خدائی ہے روایات کے ساتھ

فن کے آدرش کی روح ابدی تیری ہے

موت یہ صرف سعادت کی ہے منٹو کی نہیں

یہ شب و روز ترے ہیں یہ صدی تیری ہے

About Mustafa Zaidi (مصطفیٰ زیدی)

مصطفیٰ زیدی (1930 – 1970) پاکستان کے اردو شاعر اور سول سروس افسر تھے، جو ترگھ اللہ آبادی کے نام سے بھی لکھتے تھے۔ وہ الہ آباد یونیورسٹی کے طالبِ علم تھے اور 1950 کی دہائی میں پاکستان منتقل ہوئے؛ ان کا انتقال 1970 میں کراچی میں ہوا۔ ان کے مجموعوں میں 'زنجیریں' (1949)، 'روشنی' (1950)، 'شہرِ آزار' (1958)، 'موج مری صدف صدف' (1960) اور 'کوہِ ندا' (1971) شامل ہیں۔

Read all poetry by Mustafa Zaidi

More Urdu poetry by Mustafa Zaidi