Prof. Syed Mujahid Sajjad

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

موتی ہو کہ شیشہ جام کہ در

جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا

کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے

جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا

تم ناحق ٹکڑے چن چن کر

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

شاید کہ انہیں ٹکڑوں میں کہیں

وہ ساغر دل ہے جس میں کبھی

صد ناز سے اترا کرتی تھی

صہبائے غم جاناں کی پری

پھر دنیا والوں نے تم سے

یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا

جو مے تھی بہا دی مٹی میں

مہمان کا شہپر توڑ دیا

یہ رنگیں ریزے ہیں شاید

ان شوخ بلوریں سپنوں کے

تم مست جوانی میں جن سے

خلوت کو سجایا کرتے تھے

ناداری دفتر بھوک اور غم

ان سپنوں سے ٹکراتے رہے

بے رحم تھا چومکھ پتھراؤ

یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

یا شاید ان ذروں میں کہیں

موتی ہے تمہاری عزت کا

وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی

شمشاد قدوں نے رشک کیا

اس مال کی دھن میں پھرتے تھے

تاجر بھی بہت رہزن بھی کئی

ہے چور نگر یاں مفلس کی

گر جان بچی تو آن گئی

یہ ساغر شیشے لعل و گہر

سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں

یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں تو فقط

چبھتے ہیں لہو رلواتے ہیں

تم ناحق شیشے چن چن کر

دامن میں چھپائے بیٹھے ہو

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

کیا آس لگائے بیٹھے ہو

یادوں کے گریبانوں کے رفو

پر دل کی گزر کب ہوتی ہے

اک بخیہ ادھیڑا ایک سیا

یوں عمر بسر کب ہوتی ہے

اس کار گہ ہستی میں جہاں

یہ ساغر شیشے ڈھلتے ہیں

ہر شے کا بدل مل سکتا ہے

سب دامن پر ہو سکتے ہیں

جو ہاتھ بڑھے یاور ہے یہاں

جو آنکھ اٹھے وہ بختاور

یاں دھن دولت کا انت نہیں

ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ مگر

کب لوٹ جھپٹ سے ہستی کی

دوکانیں خالی ہوتی ہیں

یاں پربت پربت ہیرے ہیں

یاں ساگر ساگر موتی ہیں

کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر

پردے لٹکاتے پھرتے ہیں

ہر پربت کو ہر ساگر کو

نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں

کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بھڑ کر

یہ پردے نوچ گراتے ہیں

ہستی کے اٹھائی گیروں کی

ہر چال الجھائے جاتے ہیں

ان دونوں میں رن پڑتا ہے

نت بستی بستی نگر نگر

ہر بستے گھر کے سینے میں

ہر چلتی راہ کے ماتھے پر

یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں

وہ جوت جگاتے رہتے ہیں

یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں

وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں

سب ساغر شیشے لعل و گہر

اس بازی میں بد جاتے ہیں

اٹھو سب خالی ہاتھوں کو

اس رن سے بلاوے آتے ہیں

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz