Prof. Syed Mujahid Sajjad

رقیب سے!

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے

جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا

جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے

دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر

اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے

کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے

جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں

اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے

تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور

جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ

زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے

تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں

تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے

اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے

اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں

نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب

بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت

شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے

آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ

اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz