پاس رہو
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
تم مرے پاس رہو
مرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو
جس گھڑی رات چلے،
آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلے
مرہم مشک لیے، نشتر الماس لیے
بین کرتی ہوئی ہنستی ہوئی، گاتی نکلے
درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلے
جس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دل
آستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگے
آس لیے
اور بچوں کے بلکنے کی طرح قلقل مے
بہر نا سودگی مچلے تو منائے نہ منے
جب کوئی بات بنائے نہ بنے
جب نہ کوئی بات چلے
جس گھڑی رات چلے
جس گھڑی ماتمی سنسان سیہ رات چلے
پاس رہو
مرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)